كلمات ته چی په کی نه یی
ته چی په کی نه یی
حسین لوگ کو ٹکرایا
تیرے لیے دوبا
رہ واپس آیا
اپنوں کو چھوڑ
تھے نہیں
رشتوں کو
ھم جوڑ تے
ہے توڑ تھے نہیں
قسم دئ
کمی ھیر شی
کہ لس کالہ لیا نور
ہ جانان تیر شی
زہ ھغہ مین نہ یم
چی نن پسے بیما
ر سبابہ شہ یم
کیا کریں تج
ھ سے پیار ہے
یہ دل تیری چاہت
کا طلبگار ہے
تمہیں دل
سے چاہتا ہوں
آج صاف الفا
ظوں میں پھ
ر سے کہتا ہوں
قسمتہ ملامتہ
نقصان راوڑے ھرو
خت لہ محبتہ
پر زڑہ لرم غمونہ
سلام شیرانی
بیا لیکم شیرونہ
نفرت سے کیا ملتا ہے
محبت کا اخیر
صلا ملتا ہے
یہ دل دیا ہے تجھ کو
بدلے میں تجھے پیار
دینا ہے مجھ کو