د ګناهونو توبه ہم ہیں مصرو ف انتظام مگر جانے کیا انتظا م کر رہے ہیں ہے وہ بے چارگ ی کا حال کہ ہم ہر کسی کو سلا م کر رہے ہیں ایک قتال ہ چاہیے ہم کو ہم یہ اعلان عام کر رہے ہیں کیا بھلا سا غر سفال کہ ہم ناف پیالے کو جام کر رہے ہیں ہم تو آئے تھے ع رض مطلب کو اور وہ احتر ام کر رہے ہیں نہ اٹھے آہ کا دھ واں بھی کہ وہ کوئے دل میں خر ام کر رہے ہیں اس کے ہونٹوں پہ رکھ ک ے ہونٹ اپنے بات ہی ہم تمام کر رہے ہیں ہم عجب ہیں کہ اس کے کوچے میں بے سبب دھوم د ام کر رہے ہیں